ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 9برسوں میں ہندوستان کے قرض میں 181فیصد کااضافہ- 2023میں حکومت ہند پر 155لاکھ کروڑ کا قرض

9برسوں میں ہندوستان کے قرض میں 181فیصد کااضافہ- 2023میں حکومت ہند پر 155لاکھ کروڑ کا قرض

Tue, 20 Jun 2023 12:31:08    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 20/جون(ایس او نیوز/ایجنسی)ملک کے14وزرائے اعظم نے67برسوں میں مجموعی طور پر55لاکھ کروڑ روپے کا قرض لیا-گزشتہ9برسوں میں پی ایم نریندر مودی نے ہندوستان کا قرض3گنا بڑھا دیا ہے- انہوں نے صرف9برسوں میں 100لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض لیا-2014میں حکومت پر کل قرض 55لاکھ کروڑ روپے تھا جو اب بڑھ کر155لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے-

کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے10جون کو یہ بات کہی تھی- اس کے بعد سے حکومت ہند کے قرض کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے- بجٹ 2023، اقتصادی سروے اور پارلیمنٹ میں وزیر خزانہ کا جواب اورپارلیمان میں کانگریس کے دعوے کی دینک بھاسکرنے چھان بین کرتے ہوئے بہت ساری چیزوں کے حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے-رپورٹ کے مطابق مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر31مارچ2023تک155لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے- اگلے سال مارچ تک یہ بڑھ کر172لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے-

اس کے علاوہ 20مارچ2023کو وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ایم پی ناگیشور را کے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ31مارچ 2023تک حکومت ہند پر 155لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے-اس کے مطابق گزشتہ9سالوں میں ملک کے قرضوں میں 181فیصد اضافہ ہوا ہے-2004میں جب منموہن سنگھ3حکومت بنی تو حکومت3 پر کل قرضہ17لاکھ کروڑ روپے تھا-2014تک یہ3گنا سے زیادہ بڑھ کر55لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا- اگر2014میں ملک کی کل آبادی130کروڑ مان لی جائے تو اس وقت ہر ہندوستانی کا اوسط قرض تقریباً42ہزار روپے تھا-

اب2023میں اگر ہندوستان کی کل آبادی 140کروڑ ہے تو آج کے دور میں ہر ہندوستانی ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے-اسی طرح اب اگر ہم غیر ملکی قرض کی بات کریں تو2014-15میں ہندوستان کا غیر ملکی قرضہ31لاکھ کروڑ روپے تھا- اب2023میں ہندوستان کا غیر ملکی قرض بڑھ کر 50لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے-2014میں حکومت بنانے سے پہلے بی جے پی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہندوستانی حکومت کا قرضہ کم کرے گی لیکن گزشتہ9سالوں میں ملک کا قرضہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا ہے-2014سے لے کر اب تک مودی حکومت نے بیرون ملک سے کل 19لاکھ کروڑ روپے کا قرض لیا ہے، جب کہ2005سے2013تک کے9سالوں میں یو پی اے حکومت نے تقریباً 21لاکھ کروڑ روپے کا غیر ملکی قرض لیاتھا-2005میں ملک کا غیر ملکی قرضہ 10لاکھ کروڑ تھا جو2013میں بڑھ کر 31لاکھ کروڑ ہو گیا- یعنی9سالوں میں غیر ملکی قرض میں 21لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا-2014سے2022تک غیر ملکی قرض33لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر50لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، یعنی ان9سالوں میں غیر ملکی قرض میں 19لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا- اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ 2014کے بعد این ڈی اے حکومت میں ملک کا قرض کم نہیں ہوا ہے-ایک سوال جو ہر کسی کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا ملک کے قرضوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے؟

اس معاملے میں کیئر ریٹنگ ایجنسی کے چیف اکانومسٹ مدن سبنویس کے مطابق، ملک پر قرض بڑھنے کا مہنگائی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے- حکومت قرض کی رقم کو آمدنی بڑھانے کیلئے استعمال کرتی ہے- جب قرض کی رقم مارکیٹ میں آتی ہے تو اس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے-اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ قرض کی رقم کا غلط استعمال ہوا تو مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے- مثال کے طور پر اگر قرض لینے کے بعد اس رقم کو عام لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو لوگ زیادہ چیزیں خریدنا شروع کر دیں گے- اس سے مارکیٹ میں چیزوں کی مانگ بڑھے گی- ڈیمانڈ بڑھنے کے بعد سپلائی ٹھیک نہیں ہوگی تو چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی-اسی وقت، ایک اور ماہر اقتصادیات سووروکمل دتا کا ماننا ہے کہ قرض لینا کسی ملک کیلئے ہمیشہ برا نہیں ہوتا ہے- ہندوستان کی معیشت 3 ٹریلین سے زیادہ ہو چکی ہے- اس کے مطابق155لاکھ کروڑ روپے کا قرض زیادہ نہیں ہے- حکومت یہ رقم وندے بھارت جیسی ٹرینوں کو چلانے، سڑکوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر پر خرچ کرتی ہے، جو ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہیں -


Share: